پوچ گو
معنی
١ - ہرزہ سرا، فضول بکنے والا، جھوٹا، متانت یا تہذیب سے بات نہ کہنے والا، جس کی بات غیر معتبر ہو یا قابلِ اعتنا نہ ہو۔ "ساری دنیا متفق اللسان ہو کر یہ کہے کہ اقبال پوچ گو ہے تو مجھے اس کا مطلق اثر نہ ہو گا۔" ( ١٩١٤ء، مکاتیب اقبال، ٤٠:٢ )
اشتقاق
فارسی زبان سے مرکب ہے۔ فارسی میں صفت 'پوچ' کے ساتھ 'گفتن' مصدر سے فعل امر'گو' بطور لاحقۂ فاعلی ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٧٤٦ء کو 'دیوان زادہ حاتم" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ہرزہ سرا، فضول بکنے والا، جھوٹا، متانت یا تہذیب سے بات نہ کہنے والا، جس کی بات غیر معتبر ہو یا قابلِ اعتنا نہ ہو۔ "ساری دنیا متفق اللسان ہو کر یہ کہے کہ اقبال پوچ گو ہے تو مجھے اس کا مطلق اثر نہ ہو گا۔" ( ١٩١٤ء، مکاتیب اقبال، ٤٠:٢ )